واشنگٹن: باخبر امریکی ذرائع کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ممکنہ سفارتی پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران کی دو اہم سیاسی شخصیات کو عارضی طور پر اپنی ہدفی فہرست سے نکال دیا ہے، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے نام محدود مدت کے لیے اس فہرست سے ہٹائے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام چند روز کے لیے کیا گیا ہے تاکہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کے امکانات کو تقویت دی جا سکے۔
اطلاعات کے مطابق یہ پیش رفت سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جن کا مقصد جاری تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔
دوسری جانب، ترکی، پاکستان اور مصر سمیت چند اہم علاقائی ممالک اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان فوری بات چیت کے آغاز کے لیے متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان ممالک کی کوشش ہے کہ پہلے جنگ بندی ممکن بنائی جائے، جس کے بعد باضابطہ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جا سکے۔
تاہم سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے مؤقف میں نمایاں فرق موجود ہے، جس کے باعث کسی بھی فوری پیش رفت یا مذاکرات کی کامیابی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ اقدام ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن پائیدار امن کے لیے دونوں فریقین کو اپنے مؤقف میں لچک دکھانا ہوگی۔