مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ پر نمایاں اثرات مرتب ہونے لگے ہیں، جہاں ایران نے ترکیہ کو قدرتی گیس کی فراہمی عارضی طور پر روک دی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ پارس گیس فیلڈ پر حالیہ حملے کے بعد کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ترکیہ اپنی مجموعی گیس ضروریات کا تقریباً 14 فیصد ایران سے حاصل کرتا ہے، اور سپلائی کی بندش کے بعد اب انقرہ متبادل ذرائع کی جانب دیکھ رہا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ترکیہ روس اور آذربائیجان سے اضافی گیس حاصل کر کے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کرے گا۔ تاہم ایران سے گیس کی ترسیل کب تک بحال ہوگی، اس بارے میں تاحال کوئی حتمی ٹائم فریم سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب ایشیا میں بھی توانائی کے شعبے پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ فلپائن کی حکومت نے ممکنہ ایندھن بحران کے خدشے کے پیش نظر ملک میں نیشنل ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ صدر فرڈیننڈ مارکوس جونیئر کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے، جس کے اثرات مقامی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ حکومت نے ایندھن کے ذخائر اور بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
ادھر بنگلا دیش میں بھی ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں جیٹ فیول کی قیمت میں 79 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مارچ کے مہینے میں یہ دوسرا موقع ہے جب جیٹ فیول مہنگا کیا گیا، جو خطے میں بڑھتی ہوئی توانائی لاگت کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں اور سپلائی پر مزید دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات مختلف معیشتوں پر مرتب ہوں گے۔