اسلام آباد: ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ متعلقہ حکام کی جانب سے وفاقی حکومت کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی سمری ارسال کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق، آئندہ قیمتوں کے تعین کے لیے بھیجی گئی سفارشات میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 29 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 49 روپے تک اضافے کی تجویز شامل ہے۔ حتمی منظوری کا اختیار وزیرِاعظم شہباز شریف کے پاس ہے، جو اس حوالے سے فیصلہ کریں گے۔
اطلاعات کے مطابق، حکومت نے 14 مارچ کو پیٹرولیم قیمتوں میں فوری اضافے کو روکنے کے لیے ایک ہفتے کے لیے تقریباً 23 ارب روپے کا مالی بوجھ برداشت کیا تھا، جس کے باعث 14 سے 20 مارچ کے دوران قیمتیں مستحکم رکھی گئیں۔ یہ رقم پرائس ڈیفرینشل کلیمز کی مد میں ادا کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل پیٹرول کی قیمت میں 49 روپے 63 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 75 روپے 5 پیسے فی لیٹر اضافے کو مؤخر کیا گیا تھا۔ اب ایک بار پھر قیمتوں میں ردوبدل زیرِ غور ہے، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت آئندہ ہفتے بھی عوام کو ریلیف دینے کے لیے یہی مالی بوجھ اپنے ذمہ لے سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں تقریباً 121 روپے 77 پیسے ٹیکس شامل ہے، جو مجموعی قیمت کا لگ بھگ 38 فیصد بنتا ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں 73 روپے 42 پیسے ٹیکس شامل ہے، جو کل قیمت کا 22 فیصد ہے۔ ان قیمتوں میں کسٹم ڈیوٹی، پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ چارجز بھی شامل ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور حکومتی مالی پالیسیوں کے باعث آئندہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید تبدیلیاں متوقع ہیں۔