حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پاکستان سمیت 5 ممالک امریکہ کے لئے بڑا خطرہ قرار Home / بین الاقوامی /

پاکستان سمیت 5 ممالک امریکہ کے لئے بڑا خطرہ قرار

ایڈیٹر - 19/03/2026
پاکستان سمیت 5 ممالک امریکہ کے لئے بڑا خطرہ قرار

اسلام آباد ۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قومی سلامتی کے حوالے سے سینٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی ایک اہم ترین بریفنگ کے دوران سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں جہاں پاکستان، روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کو امریکہ کیلئے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گہارڈ نے سینٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر بتایا کہ یہ پانچوں ممالک اپنے روایتی میزائلوں کو ایٹمی صلاحیت سے لیس کرنے میں مصروف ہیں۔

اس رپورٹ میں پاکستان کے حوالے سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اسلام آباد مبینہ طور پر ایسے بین البراعظمی میزائل تیار کر رہا ہے جو براہ راست امریکی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چین اور روس اس وقت امریکا کے لیے سب سے بڑے اور براہ راست چیلنج بن کر ابھرے ہیں کیونکہ وہ ایسا جدید دفاعی نظام تیار کر رہے ہیں جو امریکی سیکیورٹی کونا کام بناسکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے میدان میں بھی چین امریکا کا سخت ترین حریف ثابت ہو رہا ہے۔ دوسری جانب شمالی کوریا کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کے میزائل پہلے ہی امریکا تک پہنچنے کی طاقت رکھتے ہیں، جبکہ ایران کے حوالے سے دعوی کیا گیا ہے کہ اس کے بین البراعظمی میزائل بنانے کے پروگرام اور جوہری صلاحیت کو حالیہ حملوں کے ذریعے کافی حد تک ختم کر دیا گیا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے تلسی گہارڈ نے بتایا کہ اگر چہ ایران کی فوجی طاقت اور قیادت کو حملوں سے شدید نقصان پہنچا ہے لیکن وہ اب بھی خطے میں موجود اپنے ساتھیوں کی مدد سے امریکی مفادات پر حملے کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں ہونے والی کارروائیوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو پیچھے دھکیل دیا ہے تاہم خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ موقع ملنے پر ایرانی حکومت دوبارہ اپنے میزائل اور ڈرون فورس کو کھڑا کرنے کی کوشش کرے گی۔

امریکی سینیٹ کی اس سماعت کے دوران سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان را شکلف نے قانون سازوں کو بتایا کہ اگر ایران کی فوجی سرگرمیوں کو نہ روکا جاتا تو وہ تین ہزار کلو میٹر تک مار کرنے والے میزائل تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا تھا، جس کا مطلب ہے کہ ایرانی میزائل یورپ کے کسی بھی حصے کونشانہ بنا سکتے تھے۔ ریٹکلف کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایران اپنی ٹیکنالوجی پر کام جاری رکھتا تو وہ براہ راست امریکہ کو دھمکانے کی پوزیشن میں بھی آسکتا تھا۔