کراچی میں گزشتہ شب ہونے والی شدید بارش اور تیز ہواؤں نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا، مختلف حادثات کے نتیجے میں اب تک کم از کم 20 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 60 سے زائد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ جانی نقصان بلدیہ ٹاؤن کے علاقے مواچھ گوٹھ میں ہوا، جہاں دیوار گرنے کے باعث 13 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوئے۔
حکام کے مطابق متاثرہ افراد بارش سے بچنے کے لیے ایک عمارت میں پناہ لیے ہوئے تھے کہ اچانک دیوار گرنے کا حادثہ پیش آیا۔ دیگر علاقوں میں بھی افسوسناک واقعات رونما ہوئے، قائد آباد کی مجید کالونی میں گھر کی دیوار گرنے سے میاں بیوی جان سے گئے جبکہ ایک شخص زخمی ہوا۔ کورنگی ساڑھے تین میں چھت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق ہوئیں، جبکہ کورنگی نمبر پانچ میں درخت گرنے سے ایک شخص زندگی کی بازی ہار گیا۔
اسی طرح شاہ لطیف ٹاؤن کے قریب آسمانی بجلی گرنے سے ایک شہری جاں بحق ہوا، جبکہ گلستانِ جوہر کے حسین ہزارہ گوٹھ میں دیوار گرنے سے ایک بچے کی موت واقع ہوئی۔ کلفٹن میں بھی درخت گرنے کے باعث ایک خاتون جاں بحق ہوئیں۔
بارش کے باعث شہر کے اہم کاروباری اور رہائشی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا، جن میں صدر، آئی آئی چندریگر روڈ، گلشن اقبال، بہادرآباد، طارق روڈ، شاہراہ فیصل اور یونیورسٹی روڈ شامل ہیں۔ ان علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں، جس کے نتیجے میں ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوا۔ تیز ہواؤں کے باعث متعدد درخت جڑ سے اکھڑ گئے، سائن بورڈ گر گئے اور کچے مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سب سے زیادہ بارش کورنگی میں 55 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ ماڑی پور میں 22 ملی میٹر بارش ہوئی۔ گلستانِ جوہر میں 13 اور کیماڑی میں 12 ملی میٹر بارش نوٹ کی گئی۔ ایئرپورٹ کے پرانے حصے، شارع فیصل اور سعدی ٹاؤن میں 9 ملی میٹر جبکہ جناح ٹرمینل پر 8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
آج صبح سے شہر میں مطلع ابر آلود ہے اور کہیں کہیں ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ دوپہر کے بعد ایک بار پھر گرج چمک کے ساتھ تیز بارش اور ژالہ باری کا امکان ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں