تہران/تل ابیب: ایران نے اپنے اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار علی لایجانی کی ہلاکت کے بعد اسرائیل کے خلاف بڑے پیمانے پر عسکری کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق پاسداران انقلاب نے اپنی جاری فوجی مہم کے تسلسل میں ایک نئی لہر کے تحت اسرائیلی علاقوں پر میزائل داغے، جن کا مرکزی ہدف تل ابیب رہا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی کے دوران 100 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ جانی نقصانات سے متعلق بھی دعوے سامنے آئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ان حملوں میں مختلف جدید میزائل سسٹمز استعمال کیے گئے، جن میں کلسٹر وار ہیڈز بھی شامل تھے، تاکہ زیادہ سے زیادہ اہداف کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ حملوں کے بعد تل ابیب کے مختلف علاقوں میں آگ لگنے اور عمارتوں و گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ شہر میں خطرے کے سائرن بھی بجتے رہے۔
دوسری جانب ایرانی قیادت نے اپنے ردعمل میں واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ یا دھمکی کو خاطر میں نہیں لائے گی۔ ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ ملک اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور حالیہ کارروائیاں اسی پالیسی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ موجودہ حالات میں جنگ بندی کی بات قبل از وقت ہے اور خطے میں کشیدگی برقرار رہ سکتی ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور حالیہ پیش رفت سے مشرقِ وسطیٰ میں تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔