ایران نے اپنے سینئر سکیورٹی رہنما علی لاریجانی کی شہادت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے، جو ایک مبینہ حملے میں گزشتہ شب جان سے گئے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق واقعہ ایک محفوظ مقام پر پیش آیا جہاں وہ اپنے بیٹے مرتضیٰ، نائب سکیورٹی افسر علی رضا بیات اور دیگر محافظوں کے ہمراہ موجود تھے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے ایک روز قبل اسرائیل کی جانب سے انہیں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ لاریجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری ایک پیغام اور ہاتھ سے تحریر کردہ نوٹ میں ان کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
ایرانی قومی سلامتی کونسل نے حملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں علی لاریجانی کو ملک کی ایک اہم اور بااثر شخصیت قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے مختلف اعلیٰ عہدوں پر رہتے ہوئے قومی پالیسی سازی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اس واقعے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
علی لاریجانی ایرانی سیاست میں ایک نمایاں نام تھے، جو پارلیمانی قیادت، خارجہ امور اور جوہری مذاکرات سمیت اہم شعبوں میں طویل عرصے تک سرگرم رہے۔