پشاور ۔ خیبر پختونخوا حکومت نے ضم قبائلی اضلاع کے لئے تاریخی ترقیاتی پیکچ سمیت صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بڑے منصوبوں کی منظوری دی ہے وزیر اعلیٰ نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کی ترقی کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ آئندہ سال کے ترقیاتی پروگرام میں ضم اضلاع کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا روشن قبائل پہنچ شامل کیا گیا ہے۔
اس پیج کا مقصد ان علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ مذکورہ فیصلے وزیر اعلی سہیل آفریدی کی زیر صدارت محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات ایک اہم ویڈیولنک اجلاس میں کئے گئے اجلاس میں صوبے میں سماجی شعبے کی ترقی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے ، جن میں پشاور یا کسی موزوں مقام پر جدید طبی سہولیات سے لیس ہیلتھ سٹی بنائی جائے گی۔
قسم اضلاع میں تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لیے ٹرائیل میڈیکل کالج کا قیام عمل میں لایا جائے گا ما حولیاتی تحفظ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے احساس جنگل پروگرام ' کو اگلے ترقیاتی پروگرام کا حصہ بنایا گیا ہے۔
اجلاس میں جاری مالی سال (26-2025) کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ جاری سال کے ترقیاتی پروگرام کے تحت اب تک جاری کردہ فنڈز کا 67 فیصد کامیابی سے خرچ کیا جا چکا ہے۔
آئندہ مالی سال کے دوران 218 ترجیحی منصوبوں کو مکمل کیا جائے گا۔ نئے مالی سال کے پروگرام کے تحت 80 فیصد رقم جاری منصوبوں کی تکمیل کے لیے رکھی جائے گی، جبکہ 20 فیصد رقم نئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کی جائے گی تا کہ ادھورے کاموں کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔