خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سینیٹر مشاہد حسین سید نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے پاکستانی آئل ٹینکر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جو حالیہ حالات میں ایک غیر معمولی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق یہ اجازت اس وقت دی گئی جب تیل کی ترسیل کی ادائیگی امریکی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی یوآن میں کی گئی۔ سینیٹر کا کہنا تھا کہ یہ اقدام عالمی مالیاتی اور علاقائی طاقت کے توازن میں تبدیلی کی علامت ہو سکتا ہے، جہاں ایران اپنی پالیسیوں کے ذریعے نئے رجحانات متعین کر رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ نے شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے زیر انتظام آئل ٹینکر "کراچی" نے حال ہی میں آبنائے ہرمز عبور کیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ جہاز عمان کے ساحلی علاقے صحار کے قریب بھی دیکھا گیا، جس سے اس کے محفوظ گزرنے کی تصدیق ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جدید طرز پر تیار کیا گیا یہ ٹینکر ایران کے جزیرے لارک کے اطراف سے گزرتے ہوئے آبنائے ہرمز پار کر گیا، جو عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت حساس اور اہم گزرگاہ تصور کی جاتی ہے۔ دنیا بھر کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران نے اس سمندری گزرگاہ میں نقل و حرکت محدود کر دی تھی اور خبردار کیا تھا کہ مخالف ممالک کے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، تاہم دوست ممالک کے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ دینے کا عندیہ بھی دیا گیا تھا۔
دوسری جانب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اتحادی ممالک، خصوصاً چین، پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اس اہم سمندری راستے میں بحری آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے امریکا کا ساتھ دیں۔ تاہم برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا اور جاپان نے اب تک محتاط پالیسی اپناتے ہوئے کسی براہِ راست اقدام سے گریز کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرات پیدا کر رہی ہے، اور اس میں معمولی تبدیلی بھی عالمی تیل کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔