ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک نئے مرحلے کے تحت اسرائیلی اور امریکی اہداف پر تازہ میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس کارروائی میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جدید میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جبکہ حملوں کا دائرہ کار اہم عسکری تنصیبات تک پھیلایا گیا۔
ایرانی بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے دوران حساس فوجی مراکز، بالخصوص کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز اور دفاعی مواصلاتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ مزید برآں خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی ہدف بنایا گیا، جن میں قطر کا ایک اہم اڈہ شامل ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ، خصوصاً امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز نے سیٹلائٹ شواہد کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حملوں سے خطے میں متعدد امریکی فوجی تنصیبات متاثر ہوئی ہیں، جن میں سے بعض کو بارہا نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق خطے میں موجود امریکی فوجی ڈھانچے کا ایک بڑا حصہ ان حملوں کی زد میں آ چکا ہے، جبکہ جانی نقصانات میں بھی اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ مختلف اطلاعات کے مطابق امریکی فوجیوں سمیت اسرائیل اور دیگر ممالک میں بھی ہلاکتیں اور زخمیوں کی بڑی تعداد سامنے آئی ہے۔
دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے بھی ایران کے مختلف علاقوں پر جوابی کارروائیاں جاری ہیں، جن کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ملک میں مجموعی جانی نقصان ہزاروں تک پہنچ چکا ہے، جبکہ لبنان سمیت دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔
ایرانی قیادت نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی پر سخت اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے علاقائی کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔ صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ہمسایہ ممالک میں قائم امریکی اڈوں کا استعمال ایران کے خلاف کیا جا رہا ہے، جس سے علاقائی تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔
ادھر ایرانی سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک اپنی دفاعی حکمت عملی جاری رکھے گا اور کسی بھی ممکنہ بیرونی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، جبکہ موجودہ صورتحال میں سفارتی حل کو فوری ترجیح نہیں دی جا رہی۔