اسرائیلی فوج کو ایران کی جانب سے استعمال کیے جانے والے کلسٹر وارہیڈ بیلسٹک میزائلوں کے باعث نئی سیکیورٹی تشویش کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایسے میزائل ہدف تک پہنچنے سے قبل فضا میں متعدد چھوٹے دھماکا خیز مواد منتشر کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں نقصان کا دائرہ وسیع ہو جاتا ہے اور ایک ہی وقت میں بڑے علاقے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی عسکری حکام کے مطابق یہ میزائل بلند فضا میں پہنچنے کے بعد اپنے مرکزی وارہیڈ سے درجنوں چھوٹے بم الگ کر دیتے ہیں، جو مختلف سمتوں میں پھیل کر زمین پر گرتے ہیں اور بیک وقت کئی دھماکوں کا سبب بنتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ سب میونیشنز رات کے وقت آسمان میں نارنجی چمکتے ذرات کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں۔
فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں میں سے تقریباً نصف کلسٹر میونیشنز سے لیس ہو سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق ایک میزائل سے متعدد چھوٹے دھماکا خیز مواد گرنے کے باعث جانی نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ ان کا حجم کم اور رفتار زیادہ ہونے کے باعث دفاعی نظام کے لیے انہیں روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کی یہ حکمت عملی اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام کو مصروف رکھنے اور مہنگے انٹرسیپٹر میزائلوں کے زیادہ استعمال پر مجبور کرنے کے لیے اختیار کی جا سکتی ہے، جس سے اسرائیل پر مالی اور نفسیاتی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے بعض بیلسٹک میزائل تقریباً چوبیس چھوٹے بم لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ طاقتور خرمشہر میزائل میں اس سے بھی زیادہ سب میونیشنز نصب کیے جا سکتے ہیں۔ ہر بم میں کئی پاؤنڈ دھماکا خیز مواد موجود ہوتا ہے جو زمین پر گرنے کے بعد شدید تباہی پھیلا سکتا ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اس نوعیت کے ہتھیاروں کے استعمال پر پہلے بھی تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق کلسٹر بم غیر امتیازی ہتھیار تصور کیے جاتے ہیں اور شہری علاقوں میں ان کے استعمال پر بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت پابندیاں عائد ہیں۔
اس تناظر میں اسرائیلی فوج نے شہریوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ میزائل حملے کے سائرن بجتے ہی فوری طور پر پناہ گاہوں میں منتقل ہو جائیں اور سائرن بند ہونے کے بعد بھی چند منٹ تک باہر نہ نکلیں، کیونکہ بعض سب میونیشنز تاخیر سے بھی زمین پر گر سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران جدید میزائل حکمت عملیوں کے استعمال نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس پر عالمی برادری گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔