سعودی عرب میں قائم ایک اہم فوجی تنصیب پر ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں امریکی فضائیہ کے متعدد طیاروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امریکی اخبار دی وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق حملے میں امریکی فضائیہ کے پانچ ایندھن بردار طیارے متاثر ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ میزائل اس وقت داغے گئے جب ایران نے حالیہ کشیدگی کے دوران خطے میں موجود امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے میزائلوں کی ایک نئی لہر شروع کی۔ بتایا گیا ہے کہ متاثرہ طیارے سعودی عرب کے اہم فوجی اڈے پرنس سلطان ائیر بیس پر موجود تھے جو خلیجی خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کا ایک مرکزی مرکز سمجھا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق حملے کے وقت طیارے زمین پر کھڑے تھے اور میزائلوں کے دھماکوں کے باعث انہیں نقصان پہنچا۔ متاثر ہونے والے طیارے بوئینگ کے سی ۔135 سٹارٹو ٹینکرطرز کے ہیں جو لڑاکا اور بمبار طیاروں کو دورانِ پرواز ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور فضائی آپریشنز میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طیاروں کو نقصان ضرور پہنچا تاہم وہ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئے۔ اس وقت ان کی مرمت جاری ہے اور اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یاد رہے کہ یہ اڈہ سعودی دارالحکومت ریاض سے تقریباً 70 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور امریکی افواج کے لیے خطے میں ایک اہم اسٹریٹجک مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ادھر پنٹاگون نے حالیہ دنوں میں ایک اور واقعے کی تصدیق کی تھی جس میں دو کے سی ۔135 طیارے ایک آپریشن کے دوران آپس میں ٹکرا گئے تھے۔ اس حادثے میں ایک طیارہ تباہ ہوگیا تھا اور اس میں سوار چھ اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ماہرین کے مطابق حالیہ واقعے کے بعد گزشتہ دنوں میں متاثر یا تباہ ہونے والے امریکی ایندھن بردار طیاروں کی مجموعی تعداد کم از کم سات تک پہنچ گئی ہے، جسے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔