مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے بند نہ کیے گئے تو ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ آئی لینڈ کے آئل ٹرمینل کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق حالیہ کارروائی میں خارگ جزیرے پر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا تاہم تیل کی تنصیبات کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر ہوئی تو امریکا مزید سخت اقدامات کر سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں امریکی اتحادی کمپنیوں کی تنصیبات بھی محفوظ نہیں رہیں گی۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی حملوں کے دوران خارگ جزیرے پر متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جن میں فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
ادھر ایران کی پاسداران انقلاب اسلامی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے ساتھ مل کر اسرائیل پر مزید حملے کیے ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج نے ایران میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے سے عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔