پشاور ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ خیبر پختو نخوا جل رہا ہے مگر ریاست اور حکومتیں تماشائی بنی بیٹھی ہیں۔
اگر موجودہ صورتحال کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو اس کے نتائج پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک اور تباہ کن ثابت ہوں گے۔
پی ٹی آئی نے ری کنسیلیشن کے ذریعے پختونخوا میں دہشتگردوں کو دوبارہ آباد کرایا لیکن دوسری جانب وفاقی حکومت کی اس تشویشناک صورتحال سے لاتعلقی انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ کل دنیا بھر نے وہ مناظر دیکھے جب دہشت گرد دن دیہاڑے پشاور سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر وزیر اعلیٰ کے آبائی ضلع خیبر میں ناکے لگا کر کھڑے تھے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ سب کچھ ہور ہا تھا تو ریاست اور حکومت کہاں تھیں ؟
انہوں نے کہا کہ پہلے دہشت گردی کی آڑ میں عوام کو تیراہ سے زبر دستی بے دخل کیا گیا، اب کیا پورے خیبر کو خالی کرانے اور اس پر قبضے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے؟ دہشت گردوں کا تعاقب کرتے ہوئے افغانستان تک پہنچ گئے مگر وہی عناصر پشاور کے پوش علاقے حیات آباد سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ضلع خیبر میں کھلے عام نمودار ہو گئے ۔
جنوبی اضلاع پہلے ہی حکومتی رٹ سے محروم اور دہشت گردوں کے زیر اثر ہیں اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو کل پشاور بھی ان کے کنٹرول میں چلا جائے گا۔