مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی میں بے یقینی بڑھ گئی ہے اور ایرانی فوجی ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔
ایرانی فوجی کمان کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ تیل کی قیمتوں کا براہِ راست تعلق خطے کے امن و استحکام سے ہے، لیکن امریکا کی پالیسیوں نے علاقائی سلامتی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان کے بقول موجودہ حالات میں امریکا عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی پوزیشن میں نہیں رہے گا۔
انہوں نے مزید خبردار کیا کہ ایران اپنے مخالف ممالک کو توانائی کی فراہمی روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا، اسرائیل یا ان کے اتحادیوں کی جانب جانے والا کوئی بھی بحری جہاز یا تیل بردار ٹینکر ایران کے لیے ممکنہ ہدف بن سکتا ہے۔
بدھ کے روز ایران نے اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ کے مختلف مقامات پر حملے کیے، جنہیں تجزیہ کاروں کے مطابق ایک واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے کہ تہران شدید فضائی کارروائیوں کے باوجود جوابی صلاحیت برقرار رکھتا ہے اور توانائی کی ترسیل کو متاثر کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں ہفتے کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، تاہم بعد میں قدرے استحکام آیا اور بعض اسٹاک مارکیٹوں میں بھی بہتری ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کار اس امید کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں کہ امریکا اور اس کے اتحادی اس تنازع کے خاتمے کے لیے کوئی سفارتی راستہ نکال لیں گے۔
ایرانی ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ تہران میں ایک بینک کے دفاتر کو نشانہ بنانے کے بعد ایران ایسے مالیاتی اداروں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے جو امریکا یا اسرائیل کے ساتھ کاروباری روابط رکھتے ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بینکوں کے قریب جانے سے احتیاط کریں اور کم از کم ایک ہزار میٹر کا فاصلہ رکھیں۔
ادھر اسرائیل کے ایک سینئر عہدیدار نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اسرائیلی قیادت نجی سطح پر اس امکان کو تسلیم کرنے لگی ہے کہ جنگ کے باوجود ایران کا حکومتی نظام قائم رہ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ابھی تک ایسے آثار نہیں ملے کہ امریکا اس فوجی مہم کو فوری طور پر ختم کرنے کے قریب ہے۔
زمینی صورتحال بھی بدستور کشیدہ ہے۔ عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت معمول پر نہیں آ سکی۔ ماہرین کے مطابق دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، لیکن حالیہ ناکہ بندی اور سیکیورٹی خدشات کے باعث اس کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔
توانائی کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو یہ بحران 1970 کی دہائی کے بعد عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے سب سے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔