امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال زیادہ دیر برقرار نہیں رہے گی اور امکان ہے کہ یہ تنازعہ جلد اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔ انہوں نے یہ بیان روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے دیا۔
میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روسی صدر کے ساتھ ایران اور یوکرین سے متعلق معاملات پر تفصیلی اور مثبت تبادلہ خیال ہوا ہے۔ ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا ایران کے ساتھ جاری جنگ چند دنوں یا ہفتوں میں ختم ہوسکتی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کے خیال میں یہ معاملہ "بہت جلد" حل ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر نے مزید بتایا کہ روس اس تنازع کو ختم کرانے کے لیے کردار ادا کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے روسی صدر کو یہ بھی کہا کہ اگر روس یوکرین جنگ کے خاتمے میں مدد کرے تو یہ عالمی امن کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، تاہم روس ایران کے معاملے میں بھی مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔
ادھر خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی صدر کے مشیر یوری اوشاکوف نے بتایا کہ صدر پیوٹن نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں ایران کے تنازع کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔
یوری اوشاکوف کے مطابق روسی صدر نے خلیجی ممالک کے رہنماؤں، ایرانی صدر اور دیگر عالمی شخصیات کے ساتھ حالیہ رابطوں کا بھی ذکر کیا۔ ان رابطوں کا مقصد ایران کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔
کریملن کے مطابق دونوں عالمی رہنماؤں نے یوکرین جنگ کے بارے میں بھی گفتگو کی اور اس بات پر زور دیا کہ اس تنازع کا جلد خاتمہ اور طویل مدتی سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
اس کے علاوہ عالمی تیل کی منڈی کی صورتحال کے تناظر میں وینزویلا کے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ نے بھی ایک بیان میں بتایا کہ چین، روس اور فرانس سمیت کئی ممالک نے تہران سے جنگ بندی کے حوالے سے رابطے کیے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ممکنہ جنگ بندی کے لیے ضروری ہے کہ ایران کے خلاف جارحیت کے دوبارہ نہ ہونے کی واضح ضمانت دی جائے۔