امریکی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے ایران میں ایندھن کے ذخائر پراسرائیل کے حالیہ حملوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع نکلا جس کی پیشگی اطلاع واشنگٹن کو دی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ شہریوں کو سہولیات فراہم کرنے والے بنیادی توانائی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے ایران میں حکومت کے لیے عوامی ہمدردی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ بننے کا امکان ہے۔
امریکی عہدیداروں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس نوعیت کی کارروائیاں عالمی توانائی مارکیٹ کو متاثر کر سکتی ہیں اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایک اعلیٰ امریکی اہلکار کے مطابق ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنانا ایک غیر دانشمندانہ قدم تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کے خواہاں ہیں کہ تیل کے ذخائر محفوظ رہیں تاکہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ نہ ہو اور اس کے منفی اثرات عام صارفین تک نہ پہنچیں۔