خيبر بینک نے مالی سال 2025 میں نمایاں مالی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5.82 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع حاصل کر لیا، جو گزشتہ سال کے 3.62 ارب روپے کے مقابلے میں 61 فیصد زیادہ ہے۔ یہ بینک کی تاریخ کا اب تک کا سب سے زیادہ منافع قرار دیا جا رہا ہے۔
پشاور میں منعقد ہونے والے بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 203 ویں اجلاس میں 31 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال کے آڈٹ شدہ مالیاتی نتائج کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں شیئر ہولڈرز کے لیے 1.70 روپے فی حصص ڈیویڈنڈ کی سفارش بھی کی گئی۔
مالی نتائج کے مطابق بینک کی فی حصص آمدنی 3.12 روپے سے بڑھ کر 5.02 روپے ہو گئی، جبکہ مجموعی آمدنی 23.1 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ خالص مارک اپ آمدنی میں 15.2 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 19 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔
بینک کی بیلنس شیٹ بھی مستحکم رہی اور 31 دسمبر 2025 تک مجموعی اثاثے 453.3 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ اس دوران قرضہ جات 126.7 ارب روپے جبکہ سرمایہ کاری کا حجم 275 ارب روپے رہا۔ بینک کی ایکویٹی بھی بڑھ کر 23.7 ارب روپے تک جا پہنچی، جس سے سرمایہ جاتی استحکام مزید مضبوط ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق غیر مارک اپ آمدنی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا جو 1.8 ارب روپے سے بڑھ کر 4.1 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اس اضافے میں فیس اور کمیشن کی مد میں مضبوط آمدن اور سکیورٹیز پر منافع کا اہم کردار رہا۔ بینک نے اخراجات کو 11.7 ارب روپے تک محدود رکھا، جس سے آمدنی کے مقابلے میں اخراجات کے تناسب میں واضح بہتری آئی۔