امریکی خفیہ انٹیلی جنس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ کی کسی بھی بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی کے باوجود ایران کی موجودہ مذہبی اور عسکری قیادت کو ختم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق ایران کا حکومتی اور فوجی نظام اس قدر منظم اور مضبوط ہے کہ بیرونی حملوں کے باوجود قیادت کے برقرار رہنے کا امکان موجود ہے۔
امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کے مطابق نیشنل اینٹیلی جنس کونسل کی ایک خفیہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف وسیع فوجی حملہ بھی موجودہ حکومت یا عسکری قیادت کو ختم کرنے میں ناکام رہ سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے اندر حزب اختلاف کی قوتیں بھی اس حد تک مضبوط نہیں کہ وہ حکومت پر قبضہ کر سکیں۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ایران کے لیے امریکی مطالبات کے سامنے جھکنا مشکل ہے کیونکہ ایسا کرنا اس کے بنیادی اصولوں اور نظریات سے انحراف کے مترادف سمجھا جائے گا۔ انٹیلی جنس تجزیے کے مطابق اگر ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو نشانہ بنایا گیا تو ایران کی ریاستی اور عسکری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سخت ردعمل اور بدلے کی کارروائی کا امکان موجود ہے۔
انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق ایران کی قیادت کا نظام کئی سطحوں پر قائم ہے، جس کے باعث کسی بھی حملے کے بعد بھی حکومتی اور فوجی ڈھانچہ فعال رہ سکتا ہے۔ رپورٹ میں امریکی زمینی افواج کی ایران میں براہ راست مداخلت یا کرد علاقوں میں بغاوت جیسے متبادل آپشنز پر تفصیلی غور کا ذکر نہیں کیا گیا۔
ادھر برطانوی اخباردی گارڈین نے رپورٹ کیا ہے کہ جاری فوجی کارروائیوں کے دوران امریکی اسلحہ کے ذخائر میں کمی واقع ہو رہی ہے، جس سے دیگر ممالک، خصوصاً یوکرین، کو فراہم کی جانے والی فوجی مدد متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ امریکی قانون سازوں نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ ہتھیاروں اور میزائلوں کے تیزی سے استعمال سے مستقبل کے ممکنہ فوجی بحرانوں سے نمٹنا مشکل ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر ایئر اسٹرائیکس کے فوری ردعمل میں عبوری قیادت کا ایک کونسل بھی قائم کر دیا ہے جو مستقبل میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے عمل کی نگرانی کرے گی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی خفیہ انٹیلی جنس رپورٹس پالیسی سازوں کو ممکنہ خطرات، ردعمل اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے عالمی سیکیورٹی پر اثرات سے آگاہ کرنے کے لیے تیار کی جاتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیکیورٹی کے لیے بھی طویل المدتی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔