پشاور:حکومت خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے پہلے ہی مہنگائی سے متاثر عوام پر ظلم کے مترادف قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں اتنا بڑا اضافہ براہ راست عوام کی زندگی کو متاثر کرے گا۔ ان کے مطابق اس فیصلے کے بعد ٹرانسپورٹ کے کرایوں، آٹے سمیت روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا جس سے عام آدمی کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور پیٹرول کی قیمت میں حالیہ اضافہ ان کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دے گا۔
معاون خصوصی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے دور حکومت میں جب پیٹرول کی قیمت تقریباً 150 روپے فی لیٹر تھی تو موجودہ حکمران طبقہ شدید احتجاج اور تنقید کرتا تھا، تاہم آج وہی عناصر خاموش ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال نے حکمرانوں کے دوغلے معیار کو قوم کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے اور عوام اب بخوبی جان چکے ہیں کہ مہنگائی کے اصل ذمہ دار کون ہیں۔