اسلام آباد : آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے تناظر میں روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ روس پاکستان کو خام تیل کی سپلائی کرنے جا رہا ہے اور تقریباً 7 لاکھ 33 ہزار بیرل روسی خام تیل جلد پورٹ قاسم بندرگاہ پہنچنے کا امکان ہے۔
روسی میڈیا رپورٹس کے مطابق گلوبل انرجی امور کے ماہر ڈاکٹر ممودہ سلامے کا کہنا ہے کہ پاکستان طویل عرصے سے اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر انحصار کرتا رہا ہے، تاہم ماضی میں پاکستان روس سے بھی خام تیل خرید چکا ہے اور موجودہ صورتحال میں یہ تعاون مزید بڑھ سکتا ہے۔
رپورٹ میں پاکستان بزنس کونسل کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہر 10 فیصد اضافہ پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں تقریباً ڈیڑھ سے دو ارب ڈالر تک اضافہ کر دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتی ہے تو پاکستان کا سالانہ خسارہ 5 سے 7 ارب ڈالر تک بڑھ سکتا ہے، جس سے معیشت پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔
ادھر وزیر پیٹرولیم کی جانب سے بھی حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ معاشی اور مارکیٹ حالات بہتر ہوتے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی لانے کی کوشش کی جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے باعث عالمی توانائی منڈی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت کئی درآمدی ممالک پر پڑ سکتے ہیں۔