مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خلیجی ریاستیں ایک بار پھر ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے کیے جانے والے جوابی حملوں نے نہ صرف علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ خلیجی ممالک کو بھی ممکنہ جنگی محاذ پر لا کھڑا کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی مبینہ فضائی کارروائیوں کے جواب میں گزشتہ چند روز کے دوران اپنے عرب ہمسایہ ممالک کی سمت سینکڑوں میزائل اور ڈرون داغے۔ ان حملوں کا بنیادی ہدف خلیجی خطے میں قائم امریکی فوجی اڈے تھے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شہری آبادی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے بھی نشانے پر آتے جا رہے ہیں۔
خاص طور پر سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ریاستوں میں تیل و گیس کے اہم تنصیبات کو لاحق خطرات نے حکومتی اور تجارتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف توانائی کی عالمی منڈی کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ خطے کی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اپنے ان حملوں کے ذریعے خلیجی ممالک کے اس عالمی تاثر کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے تحت انہیں محفوظ، مستحکم اور سرمایہ کاری کے لیے موزوں خطہ سمجھا جاتا ہے۔ سیاحت، تجارت اور غیر ملکی سرمایہ کاری پر ان حملوں کے منفی اثرات واضح ہونا شروع ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب خلیجی حکومتیں ابتدا ہی سے اس جنگ سے خود کو دور رکھنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک نے سفارتی ذرائع سے کشیدگی کم کرنے کی متعدد کوششیں بھی کیں، تاہم موجودہ حالات ان کوششوں کو غیر مؤثر بناتے دکھائی دے رہے ہیں۔
علاقائی مبصرین کے مطابق اگر ایرانی حملے اسی شدت سے جاری رہے اور سویلین و توانائی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنایا جاتا رہا تو خلیجی ریاستوں کے لیے غیر جانب دار رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ایسے میں ان ممالک کے جنگ میں عملی طور پر شامل ہونے کا امکان بھی بڑھتا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ سفارتی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ آیا یہ تنازع محدود رہے گا یا پورا خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔