تل ابیب: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب ایران نے رات کی تاریکی میں خطے میں قائم امریکی فوجی تنصیبات اور اسرائیل کے مختلف شہروں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران نے بحرین، عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت میں موجود امریکی اڈوں پر حملے کیے، جبکہ اسرائیل کے اہم شہری مراکز بھی زد میں آئے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر اور اسرائیلی فضائیہ کے ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں مبینہ طور پر “خیبر” نامی میزائل استعمال کیے گئے۔ تل ابیب، حیفا اور مشرقی بیت المقدس میں بھی دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
صورتحال کی سنگینی کے باعث اردن میں قائم امریکی سفارتخانے کو خالی کرا لیا گیا۔ سفارتخانے کے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے عملے کو فوری طور پر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔
دوسری جانب عرب میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران میں سرکاری نشریاتی ادارے کی عمارت سمیت مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔ حملوں کے بعد شہر میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جن کی تصدیق ایرانی میڈیا نے بھی کی۔
روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق اردن کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائلوں کو روکنے کی کوشش کی، تاہم ایک میزائل اپنے ہی فوجی اڈے کے قریب آ گرا جس سے علاقے میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔
ادھر قطری وزارت دفاع نے بتایا کہ قطر کی فضائی حدود میں ایران کے درجنوں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے علاوہ متعدد ڈرونز داخل ہوئے، جن میں سے اکثریت کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق دفاعی نظام نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ممکنہ نقصان کو محدود رکھا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کیپٹل ہل میں قانون سازوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اطلاعات تھیں کہ اسرائیل ایران پر حملے کی تیاری کر رہا تھا اور جوابی کارروائی میں امریکا بھی نشانہ بن سکتا تھا۔ ان کے مطابق پیشگی دفاعی اقدامات نہ کیے جاتے تو امریکی جانوں کا زیادہ نقصان ہو سکتا تھا۔
ڈیموکریٹ رکن کانگریس جوکیون کیسٹرو نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران کے خلاف کارروائی کی حوصلہ افزائی کر کے اسرائیل نے امریکا کو غیر ضروری خطرے میں ڈال دیا، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو روکنے کے بجائے خود کو تنازع میں شامل کر لیا۔
ادھر عالمی خبر رساں ادارے بلوم برگ کے مطابق متحدہ عرب امارات اور قطر نے اپنے اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی قیادت کو ایران کے معاملے پر کشیدگی کم کرنے کے لیے قائل کریں۔ دونوں ممالک ایک وسیع سفارتی اتحاد کی تشکیل چاہتے ہیں تاکہ بڑھتے ہوئے تنازع کا فوری اور پُرامن حل تلاش کیا جا سکے۔
خطے میں جاری اس تیزی سے بدلتی صورتحال نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ کسی بھی ممکنہ پیش رفت پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔