شپنگ ذرائع کے مطابق راس تنورہ پورٹ پر ڈرون حملہ اس وقت ہوا جب پی این ایس سی کا چارٹر جہاز تیل لوڈ کر رہا تھا۔ بندرگاہ پر PNSC چارٹر جہاز پر ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق حملے کے وقت پی این ایس سی چارٹر جہاز پاکستان کے لیے تیل لوڈ کر رہا تھا۔ ڈرون حملے کے بعد پی این ایس سی چارٹر جہاز پر تیل کی لوڈنگ معطل کر دی گئی۔
سعودی وزارت دفاع کے ترجمان نے عرب ٹی وی کو بتایا کہ آرامکو کی راس تنورہ تنصیبات کے قریب دو ڈرونز کو مار گرایا گیا۔ راس تنورہ پر حملے کے نتیجے میں کوئی شہری زخمی نہیں ہوا۔ حملے کے بعد گرنے والے ملبے کے باعث ریفائنری میں محدود آگ بھڑک اٹھی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق راس تنورا پورٹ سے ملحقہ ریفائنری کو بند کر دیا گیا ہے اور محدود حد تک آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔