کراچی : ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کی خبروں کے بعد شہرِ قائد میں احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے، جس دوران مشتعل افراد نے امریکی قونصل خانے کے باہر ہنگامہ آرائی کی اور عمارت کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین کی ایک بڑی تعداد نے سیکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کی اور قونصل خانے کے استقبالیہ حصے کو آگ لگانے کی بھی سعی کی گئی، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں شہر کے مختلف علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اب تک ان جھڑپوں میں کم از کم 10 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور حساس مقامات کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ شہر کے مختلف حصوں میں حالات پر قابو پانے کے لیے گشت میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔