گلگت/سکردو: گلگت بلتستان میں حالیہ پُرتشدد احتجاجی واقعات کے بعد ضلعی انتظامیہ نے گلگت اور سکردو میں تین روز کے لیے مکمل کرفیو نافذ کر دیا ہے جبکہ امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے فوج کو طلب کر کے حساس مقامات پر تعینات کر دیا گیا ہے۔
احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی ہلاکت کی خبروں کے بعد شروع ہوا، جن کے بارے میں ایرانی ذرائع نے اتوار کی صبح تصدیق کی۔ اس اعلان کے بعد ملک کے مختلف شہروں سمیت گلگت بلتستان میں بھی بڑے اجتماعات اور ریلیاں نکالی گئیں، جو بعض مقامات پر پُرتشدد صورت اختیار کر گئیں۔
حکام کے مطابق مظاہرین نے امریکی سفارتی تنصیبات اور دیگر حساس مقامات کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رکاوٹیں کھڑی کیں۔ اس دوران پولیس، رینجرز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔
سرکاری سطح پر جاری اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں 10، اسلام آباد میں تین جبکہ سکردو میں پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ گلگت میں ہلاکتوں کی درست تعداد کے بارے میں باضابطہ اعلان تاحال سامنے نہیں آیا، تاہم مقامی پولیس اور محکمہ صحت کے بعض سینیئر حکام نے غیر رسمی طور پر کم از کم پانچ اموات کی تصدیق کی ہے۔ دوسری جانب مقامی شیعہ تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ گلگت میں جاں بحق افراد کی تعداد سات ہے اور ان کی اجتماعی نماز جنازہ آج دن 11 بجے ادا کی جائے گی۔
حکومتِ پاکستان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے عوام سے تحمل اور پُرامن طرزِ عمل اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ متعدد شہروں میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کرفیو کے دوران تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز اور دفاتر بند رہیں گے جبکہ سیکیورٹی فورسز فلیگ مارچ اور گشت کے ذریعے صورتحال پر کڑی نظر رکھیں گی۔ حکام کے مطابق حالات معمول پر آنے تک سخت حفاظتی اقدامات برقرار رکھے جائیں گے۔