وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ہر قسم کے اجتماعات اور مظاہروں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے یہ اقدام کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر احتجاج کے دوران مظاہرین قونصلیٹ کے احاطے میں داخل ہو گئے اور توڑ پھوڑ کی۔ اس دوران فائرنگ کے واقعے میں آٹھ افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
سندھ کے مختلف شہروں میں بھی احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں۔ نوابشاہ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی اور ریلی نکالی گئی، جبکہ سانگھڑ میں مظاہرین نے نوابشاہ مین شاہراہ پر دھرنا دیا۔ عمرکوٹ میں بھی شہری سڑکوں پر نکل آئے اور کاروباری مراکز بند رہے۔ شاہی بازار، تھر بازار اور عائشہ مارکیٹ سمیت متعدد تجارتی مراکز میں سرگرمیاں معطل رہیں۔
اسی طرح نوشہرو فیروز، گھوٹکی اور خیرپور میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے جبکہ بعض مقامات پر قومی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔ جیکب آباد میں مجلس وحدت مسلمین اور شہریوں نے ڈی سی چوک پر دھرنا دیا، جبکہ جھل مگسی میں امام بارگاہ نقویہ سے پریس کلب تک ریلی نکالی گئی جس میں بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی۔
ملک کے مختلف حصوں میں جاری احتجاج کے باعث کاروباری اور ٹریفک سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ سیکیورٹی ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ انتظامیہ کی جانب سے شہریوں سے پرامن رہنے اور قانون ہاتھ میں نہ لینے کی اپیل کی جا رہی ہے۔