حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
خلیجی خطے میں کشیدگی عروج پر، ایران کے 14 امریکی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ، مختلف ممالک کی شدید مذمت Home / بین الاقوامی /

خلیجی خطے میں کشیدگی عروج پر، ایران کے 14 امریکی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ، مختلف ممالک کی شدید مذمت

ایڈیٹر - 01/03/2026
خلیجی خطے میں کشیدگی عروج پر،  ایران کے 14 امریکی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ، مختلف ممالک کی شدید مذمت

تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایران نے خلیجی ممالک میں قائم 14 امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے اور حملوں میں سیکڑوں اہلکاروں کی ہلاکت کا مؤقف اختیار کیا ہے، تاہم متاثرہ ممالک کی جانب سے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جن امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا کہا گیا ہے وہ متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، قطر اور سعودی عرب میں واقع ہیں۔ ان ممالک نے ایرانی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

کویتی وزارتِ دفاع کے مطابق ایران نے علی السالم ایئر بیس کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تین فوجی اہلکار زخمی ہوئے، تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تنصیب کے ایک حصے کو نقصان پہنچا ہے لیکن فوجی آپریشنل صلاحیت متاثر نہیں ہوئی۔

متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، تاہم گرنے والے ملبے سے ایک پاکستانی شہری جاں بحق ہوگیا۔ سعودی حکام کے مطابق ایران نے ریاض اور مشرقی علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جسے فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا اور کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

قطر نے ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دیں، جبکہ حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں معطل کر دی گئیں۔ ادھر بحرین میں حکام نے سائرن کے ذریعے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔

دوسری جانب اردن اور شام نے بھی ایرانی ڈرونز کو مار گرانے کا دعویٰ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی اقدام کا سخت جواب دیا جائے گا۔ خطے میں حالیہ پیش رفت کے بعد کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔