ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کی خبر کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس کے دوران بعض مقامات پر صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ شہر کے اہم علاقوں نمائش چورنگی، عباس ٹاؤن اور ٹاور پر مظاہرین کی بڑی تعداد جمع ہوئی جہاں نعرے بازی اور دھرنے دیے گئے۔ بعد ازاں مظاہرین کی ایک بڑی تعداد امریکی قونصل خانہ کراچی کی جانب بڑھ گئی، جہاں پہلے سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق قونصل خانے کے اطراف اچانک ہنگامی کیفیت پیدا ہوگئی اور بعض مشتعل افراد نے پتھراؤ کیا، جبکہ فائرنگ کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور آگ لگنے کے واقعات بھی پیش آئے، تاہم حکام کی جانب سے نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو منتشر کرنے اور صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے علاقے میں گشت بڑھا رہے ہیں جبکہ اطراف کی سڑکوں کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ شہری انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن رہیں، غیر مصدقہ اطلاعات پر کان نہ دھریں اور قانون ہاتھ میں لینے سے گریز کریں۔ حکام کے مطابق شہر کی مجموعی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔