حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کی خبروں کے بعد پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں احتجاجی مظاہرے Home / بین الاقوامی /

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کی خبروں کے بعد پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں احتجاجی مظاہرے

ایڈیٹر - 01/03/2026
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کی خبروں کے بعد پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں احتجاجی مظاہرے

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کی خبروں کے بعد پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ مختلف شہروں میں شہری بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں جبکہ کئی مقامات پر سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

کراچی میں نمائش چورنگی پر شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی جہاں مظاہرین نے دھرنا دیا اور شدید نعرے بازی کی۔ احتجاج کے باعث اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ٹریفک پولیس کے مطابق نمائش چورنگی جانے والے متعدد راستے عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں جبکہ شہریوں کو متبادل راستوں کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ شہر کا نظامِ ٹریفک مکمل طور پر معطل نہ ہو۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

ادھر عراق کے دارالحکومت بغداد میں بھی شدید احتجاج دیکھنے میں آیا۔ اطلاعات کے مطابق امریکی اور اسرائیلی کارروائی میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی خبر کے بعد مظاہرین نے گرین زون کی جانب مارچ کیا۔ گرین زون بغداد کا انتہائی محفوظ علاقہ ہے جہاں عراقی حکومت کے اہم دفاتر، پارلیمنٹ اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق بعض مظاہرین نے امریکی سفارت خانے کی طرف بڑھنے کی کوشش کی جبکہ کچھ افراد نے گرین زون کے داخلی راستوں کے قریب گاڑیوں کو روکنے کی بھی کوشش کی۔ سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی کی کیفیت برقرار رہی۔

ایران کی خبر رساں ایجنسی فارس نیوز ایجنسی نے بھی مختلف شہروں کی ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں شہریوں کو سڑکوں پر نکل کر اپنے رہنما کے لیے سوگ مناتے دیکھا جا سکتا ہے۔ متعدد شہروں میں تعزیتی اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں جبکہ عوامی سطح پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

امریکا میں بھی اس واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ نیویارک شہر کے علاقے ٹائمز اسکوائر میں شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی۔نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے امریکی حملوں کو خطرناک پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر قانونی جنگ میں تشویشناک اضافہ ہے۔ مظاہرین نے فوری جنگ بندی اور مزید حملے روکنے کا مطالبہ کیا۔

مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں بھی لال چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جہاں مظاہرین نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے خلاف نعرے بازی کی اور تعزیتی اجتماع منعقد کیا۔

حالیہ صورتحال کے بعد خطے اور عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مختلف ممالک اور عالمی رہنما اس پیش رفت پر بیانات جاری کر رہے ہیں جبکہ متعدد شہروں میں احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں۔ سیکیورٹی ادارے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔