پشاور ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر اپنے پالیسی بیان میں کہا ہے کہ موجودہ صورتحال کسی ایک دن یا ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی جڑیں گزشتہ پچاس برس کی پالیسیوں اور فیصلوں میں پیوست ہیں۔
ان حالات کو سمجھنے کے لیے تاریخ کے ان ابواب کا سنجیدہ مطالعہ ناگزیر ہے جنہیں دانستہ طور پر نظر انداز کیا جاتا رہا۔
انہوں نے کہا کہ چار نسلوں سے خدائی خدمت گار تحریک کے رہنماؤں اور پختون قوم پرست قیادت نے ریاست کو متنبہ کیا کہ تشدد اور مداخلت کی پالیسیاں خطے کو تباہی کی طرف لے جائیں گی، مگر ان آوازوں کو مسلسل نظر انداز کیا گیا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ باچا خان نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ افغانستان کی جنگ عالمی طاقتوں کی جنگ ہے جہاد نہیں بلکہ فساد ہے۔ اسی طرح خان عبدالولی خان نے خبر دار کیا تھا کہ اگر کسی کے گھر بارود بھیجا جائے گا تو بدلے میں پھول نہیں آئیں گئے مگر انہیں روسی ایجنٹ قرار دیا گیا۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا که اسفند یار ولی خان نے قومی اسمبلی کے فلور پر ہاتھ جوڑ کر اپیل کی تھی کہ نئی نسل کو کار توس اور کلاشنکوف نہیں بلکہ قلم اور کتاب دی جائے مگر انہیں بھی الزامات کی سیاست کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ لاکھوں خدائی خدمت گاروں سیاسی کارکنوں اور باشعور شہریوں نے جان و مال کی قربانیاں دے کر ریاست کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ انتہا پسندی کا راستہ تباہی پر منتج ہوتا ہے لیکن افسوس کہ آج بھی ان حقائق کو تسلیم کرنے میں پس و پیش سے کام لیا جا رہا ہے۔
ان کے بقول ہم نے جو بیج بوئے، آج وہی کاٹ رہے ہیں ، نفرت، شدت پسندی اور جنگی بیا یے نے پوری ایک نسل کو متاثر کیا ہے اور اگر یہ آگ دوبارہ بھڑ کی تو اس کی لپیٹ میں سرحدیں قومیتیں اور ریاستی حد بندیاں سب آ جائیں گی۔
مرکزی صدر اے این پی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام جنگ نہیں چاہتے ۔ یہ جنگ خطے کے عوام کی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی مسابقت کا شاخسانہ رہی ہے جس کے لیے اس خطے کو طویل عرصے سے میدان کارزار بنایا جاتا رہا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا افغانستان اور پاکستان میں قائم حکومتیں حقیقی معنوں میں عوامی منشا کی نمائندہ ہیں؟ ان کے مطابق ان حکومتوں کے قیام میں عوامی رائے سے زیادہ دیگر قوتوں کا کردار نمایاں رہا ہے۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے دونوں ممالک کے مقتدر حلقوں پر زور دیا کہ پالیسی سازی میں عوام کی رائے کو مقدم رکھا جائے۔ سرحد کے دونوں جانب کے عوام امن روزگار تعلیم اور باعزت زندگی کے خواہاں ہیں نہ کہ جنگ اور بدامنی کی۔