حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
قومی شناختی کارڈ سے مائیکرو چِپ ختم، حکومت کی قواعد میں بڑی تبدیلیوں کی منظوری Home / پاکستان /

قومی شناختی کارڈ سے مائیکرو چِپ ختم، حکومت کی قواعد میں بڑی تبدیلیوں کی منظوری

ایڈیٹر - 28/02/2026
قومی شناختی کارڈ سے مائیکرو چِپ ختم، حکومت کی قواعد میں بڑی تبدیلیوں کی منظوری

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے قومی شناختی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اہم اصلاحات کی منظوری دے دی ہے، جن کے تحت قومی شناختی کارڈ اور پاکستان اوریجن کارڈ کے قواعد میں نمایاں ترامیم کی گئی ہیں۔ متعلقہ حکام کے مطابق ان تبدیلیوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

سرکاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اصلاحات کا مقصد شناختی ڈھانچے کو موجودہ ڈیجیٹل تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا اور تصدیقی نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ نئی ترامیم کے تحت کیو آر کوڈ کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے جو ایک محفوظ اور مشین سے پڑھا جانے والا دو بُعدی بارکوڈ ہوگا۔ اس کوڈ کے ذریعے شناختی معلومات کو محفوظ انداز میں انکوڈ کیا جا سکے گا اور اسکیننگ کے ذریعے فوری تصدیق ممکن ہوگی۔

قواعد میں اس امر کی بھی اجازت دی گئی ہے کہ مائیکرو چِپ کے متبادل کے طور پر کیو آر کوڈ یا کوئی اور جدید تکنیکی فیچر متعارف کرایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نادرا کو جدید ٹیکنالوجی اپنانے میں آسانی ہوگی اور مستقبل میں بار بار قانونی ترامیم کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

نیا نظام آن لائن اور آف لائن دونوں صورتوں میں فوری تصدیق کی سہولت فراہم کرے گا، جبکہ نیشنل ڈیٹا ایکسچینج لیئر کے ذریعے مختلف اداروں کے درمیان رابطہ مزید مضبوط ہوگا۔ اس سے سرکاری و نجی شعبوں میں شناختی تصدیق کے عمل میں تیزی اور شفافیت آئے گی اور جعل سازی کے امکانات میں کمی متوقع ہے۔

مزید برآں، شناختی کارڈ کی معطلی سے متعلق ضوابط کو بھی واضح اور سخت کر دیا گیا ہے۔ اب کسی بھی کارڈ کی معطلی کی صورت میں اس سے وابستہ تمام تصدیقی خدمات فوری طور پر غیر مؤثر تصور ہوں گی، تاکہ معطل شدہ کارڈ کسی بھی ادارہ جاتی یا ڈیجیٹل نظام میں استعمال نہ ہو سکے۔

بائیومیٹرک نظام کو وسعت دیتے ہوئے فنگر پرنٹس کے ساتھ آئرس اسکین کو بھی باضابطہ طور پر قواعد کا حصہ بنا دیا گیا ہے، جس سے ملٹی موڈل بائیومیٹرک شناختی نظام کو تقویت ملے گی۔

شہری سہولت کے پیش نظر 60 برس یا اس سے زائد عمر کے مقیم و غیر مقیم پاکستانیوں کو خصوصی نشان کے ساتھ تاحیات مؤثر اسمارٹ قومی شناختی کارڈ جاری کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس سے بزرگ شہریوں کو بار بار تجدید کے مرحلے سے نجات ملے گی۔

اسی طرح آزاد جموں و کشمیر کے رہائشیوں کے شناختی کارڈ پر “باشندہ آزاد ریاست جموں و کشمیر” درج کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ جغرافیائی شناخت کو یکساں بنایا جا سکے۔

حکام کے مطابق یہ اصلاحات قومی شناختی نظام کو قانونی اور تکنیکی طور پر مزید مستحکم کریں گی اور ملک کو مربوط ڈیجیٹل طرز حکمرانی کی سمت میں آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔