اسلام آباد: ملک میں تعلیمی بحران کی سنگینی ایک بار پھر واضح ہو گئی ہے۔ پاکستان ادارہ برائے تعلیم کی تعلیمی سال 2024-2023 سے متعلق جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ 53 لاکھ 70 ہزار بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو قومی تعلیمی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسکول سے باہر بچوں میں 13 اعشاریہ 41 ملین بچیاں جبکہ 11 اعشاریہ 96 ملین لڑکے شامل ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر 25 اعشاریہ 37 ملین بچے بنیادی حقِ تعلیم سے محروم ہیں۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بچیوں کی تعداد لڑکوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے، جو صنفی عدم مساوات کی عکاسی کرتا ہے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق اس صورتحال کی بڑی وجوہات میں غربت، سماجی رکاوٹیں، دور دراز علاقوں میں اسکولوں کی کمی، اساتذہ کی قلت اور بنیادی سہولیات کا فقدان شامل ہیں۔ دیہی علاقوں اور پسماندہ اضلاع میں صورتحال زیادہ تشویشناک ہے جہاں بچیوں کی تعلیم کو اکثر ترجیح نہیں دی جاتی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ لاکھوں بچے نہ صرف تعلیمی میدان سے باہر رہیں گے بلکہ مستقبل میں قومی ترقی کی رفتار بھی متاثر ہوگی۔ ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تعلیمی بجٹ میں اضافہ کرے، اسکولوں کی تعداد بڑھائے، اساتذہ کی بھرتی یقینی بنائے اور خاص طور پر بچیوں کی تعلیم کے لیے خصوصی مہمات شروع کرے۔