پشاور۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا اسمیل آفریدی نے صوبے کے پانچ نئے اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس (CPUs) کے قیام کی منظوری دے دی ہے،
جس کے بعد صوبے بھر میں یونٹس کی تعداد بڑھ کر 24 ہو جائے گی اس اہم فیصلے کے تحت خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کے لیے مجموعی طور پر 119.86 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق 57 ملین روپے ”گڈ گورنس روڈ میپ کے تحت نئے یونٹس کے قیام پر خرچ کیے جائیں گے جبکہ 62.86 ملین روپے موجودہ یونٹس کو مضبوط بنانے ، خالی آسامیوں پر تقرریوں اور سروس ڈیلیوری بہتر بنانے کے لیے مختص کیے گئے ہیں ۔
نئے چائلڈ پروٹیکشن یونٹس مانسہرہ، شانگلہ، مالاکنڈ، ڈیرہ اسماعیل خان اور نوشہرہ میں قائم کیے جائیں گے۔ سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود نذرحسین شاہ نے اس اقدام کو بچوں کے تحفظ کے نظام میں ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن یونٹس خطرے سے دو چار بچوں کی نشاندہی، رجسٹریشن، بھائی اور معاشرے میں دوبارہ انضمام کا مرکزی ادارہ ہیں۔
چیف چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن اعجاز محمد خان نے بتایا کہ فنڈز کے اجراء کے بعد ای ٹی ای اے کے ذریعے میرٹ پر بھرتیوں کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہر یونٹ میں چائلڈ پروٹیکشن آفیسر، سوشل کیس ورکر اور ماہر نفسیات تعینات ہوں گے جو بچوں کو مکمل کیس مینجمنٹ اور قانونی معاونت فراہم کریں گے۔