سوات: کی تحصیل مدین میں خیبر پختونخوا حکومت کا جعلی لیگل ایڈوائزر بن کر سرکاری اداروں میں مداخلت کرنے والے شخص اور اس کے مبینہ سہولت کار پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نجیب خود کو خیبر پختونخوا حکومت کا لیگل ایڈوائزر ظاہر کرتا تھا اور مختلف سرکاری اداروں کو افسران کے تبادلوں اور تقرریوں کے سلسلے میں فون کر کے اثرانداز ہونے کی کوشش کرتا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم سرکاری معاملات میں غیر قانونی مداخلت کے ذریعے اختیارات کا ناجائز استعمال کر رہا تھا۔
تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزم کا مبینہ سہولت کار ڈی ایس پی مدین کا ریڈر اہلکار حمید ہے، جسے بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق اہلکار پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور جعل سازی میں معاونت کا شبہ ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور اس بات کی چھان بین کی جا رہی ہے کہ آیا اس نیٹ ورک میں مزید افراد بھی شامل ہیں یا نہیں۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ سرکاری امور میں مداخلت اور جعل سازی کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔