ریاض: برازیل سے تعلق رکھنے والی پیشہ ور فٹبالر کیتھیلین سوزا نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد انہوں نے عمرہ کی سعادت بھی حاصل کی۔ ان کے اس فیصلے کو سعودی عرب میں کھیلوں اور سماجی حلقوں میں خصوصی توجہ حاصل ہو رہی ہے۔
کیتھیلین سوزا اس وقت النصر ویمنز فٹبال کلب کی نمائندگی کر رہی ہیں اور گزشتہ دو برس سے سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ کلب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ان کے قبولِ اسلام کے لمحے کو “خاص اور روحانی تجربہ” قرار دیا اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ کلب کے بیان میں دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ انہیں ثابت قدمی عطا فرمائے اور ان کی زندگی کو سکون اور اطمینان سے بھر دے۔
قبولِ اسلام کے بعد کیتھیلین سوزا نے عمرہ ادا کیا اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے اپنی داخلی کیفیت اور جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا کہ وہ زندگی میں درست سمت کی تلاش، مثبت تبدیلی اور اپنی شخصیت کو بہتر بنانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ان کے مطابق یہ سفر ان کے لیے شکرگزاری اور روحانی اطمینان کا باعث بنا ہے۔
کیتھیلین سوزا کا تعلق برازیل سے ہے اور انہوں نے کم عمری میں فٹبال کھیلنا شروع کیا۔ ابتدائی تربیت کے دوران وہ برازیل کے معروف کلب سنٹوس ایف سی کی یوتھ ٹیم کا بھی حصہ رہیں۔ بعد ازاں وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ منتقل ہو گئیں جہاں انہوں نے یونیورسٹی آف لوئسویلی اور یونیورسٹی آف سنٹرل فلوریڈا سے تعلیم حاصل کی۔ اس دوران انہوں نے یونیورسٹی سطح پر فٹبال میں بھی نمایاں کارکردگی دکھائی۔
دو سال قبل وہ سعودی عرب آئیں اور النصر ویمنز کلب میں شمولیت اختیار کی۔ سعودی معاشرے میں قیام اور مقامی ثقافت سے قربت نے ان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔ ذرائع کے مطابق وہ اسلامی اقدار اور طرزِ زندگی سے متاثر ہوئیں، جس کے بعد انہوں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔
کھیل اور روحانیت کے اس امتزاج نے کیتھیلین سوزا کی زندگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے کو نہ صرف ان کے مداحوں بلکہ کھیلوں کی برادری میں بھی احترام اور دلچسپی کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔