پاکستان نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی حالیہ پالیسیوں اور اقدامات پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ زیرِقبضہ علاقوں کو نام نہاد ریاستی تحویل میں لینے اور نئی آبادکاری کو وسعت دینے کی کوششیں ناقابلِ قبول اور عالمی اصولوں کے منافی ہیں۔
ترجمان کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف عالمی قانون بلکہ اقوام متحدہ کا سیکیوریٹی کونسل اور جنرل اسمبلی اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ان پیش رفتوں کا واضح نوٹس لے اور ذمہ دار فریق کو جوابدہ بنائے۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ یکطرفہ اور اشتعال انگیز پالیسیاں خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہی ہیں۔ پاکستان نے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے اور استثنیٰ کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
دفتر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا اور 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔