پشاور ۔ خیبر پختونخوا کے ضم اضلاع میں تعلیم کے ایک اہم منصوبے الٹرنیٹ لرننگ پاتھ ویز کے پانچ سال کے بعد خاتمھے سے 15 ہزار بچے سکولوں سے باہر ہو گئے ۔
ان بچوں کیلئے نئے اے ڈی پی منصوبہ ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تاخیری حربوں کے باعث پانچ ماہ سے غیر ضروری التواء کا شکار ہے ، پہلے ہی سے صوبہ میں 49 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں
ضم اضلاع میں تعلیم کے اس اہم منصوبے کو جاری رکھنے اور میں ہزار بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کیلئے مرجڈ اسر یا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی جانب سے اے ایل پی سنٹرز اور کمیونٹی فیڈرسکولز کے قیام کا چھ ماہ پہلے پی سی ون جمع کرایا گیا مگر محکمہ تعلیم کے اعتراضات اور تاخیری حربوں کے باعث یہ اہم منصوبہ ابھی تک منظور نہیں ہو سکا یہ منصوبہ ان بچوں کیلئے ہے جو پانچ سالوں سے پرا جیکٹ سکولوں میں زیر تعلیم تھے۔