ایبٹ آباد (نمائندہ خصوصی) — ایبٹ آباد میں واقع جامعہ کے احاطے میں پیش آنے والے ایک پُرتشدد واقعے کے نتیجے میں ایک طالب علم جان کی بازی ہار گیا، جس کے بعد تعلیمی حلقوں اور سیاسی کارکنان میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ جاں بحق ہونے والے طالب علم کی شناخت عبداللہ خانزادہ جدون کے نام سے ہوئی ہے، جو بی ایس میتھمیٹکس کے پانچویں سمسٹر میں زیرِ تعلیم تھے اور انصاف اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے سرگرم رکن سمجھے جاتے تھے۔
پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ جامعہ کے احاطے میں جھگڑے کے دوران پیش آیا جو بعد ازاں مسلح تصادم میں تبدیل ہوگیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں عبداللہ خانزادہ شدید زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، جبکہ دو دیگر افراد بھی زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
واقعے کے بعد طلبہ کی بڑی تعداد نے احتجاج کرتے ہوئے مرکزی شاہراہ کو بلاک کر دیا اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور جامعہ میں طلبہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
پولیس نے طلبہ کے احتجاج کے بعد مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر میں ایک مقامی رکن صوبائی اسمبلی کے صاحبزادے سمیت پانچ افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ دیگر نامزد ملزمان میں اسامہ، حسن خان اور ثناء اللہ خان جدون شامل ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید پیش رفت کی جائے گی۔
عبداللہ خانزادہ جدون کا تعلق ضلع ہری پور کے گاؤں کیلگ سے بتایا جاتا ہے۔ ساتھی طلبہ کے مطابق وہ ایک متحرک اور باصلاحیت طالب علم تھے جو تعلیمی و تنظیمی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور طلبہ کے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کرتے تھے۔
اس افسوسناک واقعے نے جامعہ کے ماحول کو سوگوار بنا دیا ہے، جبکہ سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے بھی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔