اسلام آباد ۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میں 18 سال سے کم عمر نو جوانوں کی قانون سازی کو غیر اسلامی سمجھتا ہوں ، میں آپ کے اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں جس نے یہ قانون بنایا، یہ ڈنگ ٹپاؤ کی سیاست مناسب نہیں، میں اپنا شدید احتجاج ایوان میں ریکارڈ کرارہا ہوں،
ہم ایسے قوانین اس ملک میں نہیں چلنے دیں گے، اگر میں جنرل پرویز مشرف کے خلاف نکل سکتا ہوں تو ان کے خلاف بھی نکل سکتا ہوں، 25 کروڑ انسانوں کو ہانکنا قبول نہیں کریں گے۔
جمعہ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اس قانون سازی کو اسلامی نظریاتی کونسل بھیجتے تو اچھا ہوتا، میں آپ کے قانون کی خلاف ورزی کروں گا، 18 سال سے کم عمر نو جوانوں کی شادیاں کراؤں گا۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنا شدید احتجاج ایوان میں ریکارڈ کرا رہا ہوں، ہم ایسے قوانین اس ملک میں نہیں چلنے دیں گے، میں آپ کے اس مائنڈ سیٹ کے خلاف ہوں جس نے یہ قانون بنایا، یہ ڈنگ ٹپاؤ کی سیاست مناسب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ شریعت کا معاملہ ہو تو اُسے اسلامی نظریاتی کونسل بھیج دیا جائے تاہم یہاں قانون کے پیچھے لکھا ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ یا آئی ایم کی شرط تو ہم نے اس آئین کا حلف اٹھایا ہے یا تو پھر اسلامی جمہوریہ سے لفظ اسلامی ہٹا دیں، ہم اس قانون کو ملک میں چلنے نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آپ نے جس طرح کی آئینی ترامیم کی ہیں میں اعلان کرتا ہوں کہ میں سرعام ان کی خلاف ورزی کروں گا اور 15 سال، 16 سال اور 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا اور ان میں خود بیٹھوں گا۔
میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں کہ آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پیس بورڈ کے نکات میں تبدیلیاں ہو ئیں تو آپ کیوں گئے ، ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی قوت جارحیت کو تقویت دے رہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ حماس کو دھمکیاں دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان، عراق، لیبیا کی اینٹ سے اینٹ بجادی، اسرائیل ایران پر حملہ کرنے کے بعد تفتان کی سرحد پر کھڑا ہوگا، اسرائیل کے پہلے صدر نے کہا کہ ہماری اساس ایک نوزائیدہ اسلامی ریاست کا خاتمہ ہوگا، ان کے ارادے واضح ہیں اس کے باوجود ہم دوڑتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تم ڈونلڈ کی شکل میں ایک بت کو راضی کرنے میں لگے ہو، امریکا نے آپ کے بنگال کو بھی نہیں بچایا آگے بھی نہیں بچائیں گے، ایسے فورم میں جا رہے ہیں جس کا آغاز دھمکیوں سے ہو رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دلیل دی جاتی ہے کہ اقوام ہورہا متحدہ میں بھی اسرائیل ہے، آپ کے پاسپورٹ میں اسرائیل جانے پر پابندی کیوں ہے، ہمیں امن چاہیے تا ہم کوئی اصول ہوتے ہیں، ہر طرف معاشی ترقی ہورہی ہے صرف پاکستان ڈوب رہا ہے، وزیر اعظم نے پارلیمنٹ اور کا بینہ کو اعتماد میں نہیں لیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر مشرف کے خلاف نکل سکتا ہوں تو آپ کے خلاف نکل سکتا ہوں،