سندھ کی جامعات کے وزیر اسماعیل راہو کے مطابق میٹرک اور انٹر کے لیے نئے گریڈنگ سسٹم کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے تحت 40 فیصد سے کم نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کو فیل تصور کیا جائے گا۔
اسماعیل راہو نے کہا کہ امتحانی نتائج کے لیے تعلیمی بورڈز میں رائج پرانے نمبر سسٹم کو ختم کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے اور بین الاقوامی معیار کا نیا ’گریڈنگ سسٹم‘ نافذ کیا گیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ وفاقی سطح پر انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی) کی جانب سے کیے گئے پالیسی فیصلوں کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
مرحلہ وار نفاذ:
انہوں نے کہا کہ نئے گریڈنگ سسٹم کو مرحلہ وار صوبے بھر میں نافذ کیا جائے گا، جس کا آغاز رواں سال 2026 میں 9ویں اور 11ویں (SSC-I/HSSC-I) کے پہلے سالانہ امتحانات سے ہوگا۔
صوبائی وزیر کے مطابق اس کا اطلاق سال 2027 میں ہونے والے دسویں اور بارہویں (SSC-II/HSSC-II) کے سالانہ امتحانات پر بھی ہوگا۔
*A ڈبل پلس (A++) 96% سے 100% جبکہ A پلس (A+) 91% سے 95% ہو گا۔
*A (A) 86% سے 90% جبکہ B ڈبل پلس (B++) 81% سے 85% ہو گا۔
*B Plus (B+) 76% سے 80% جبکہ B (B) 71% سے 75%۔
*C Plus (C+) 61% سے 70% جبکہ C (C) 51% سے 60%۔
*D (D) 40% سے 50% ابھر رہے ہوں گے۔
*U (U) 40% سے کم ہوگا (ناکام / انڈر گریڈ)۔
اسماعیل راہو کے مطابق نئی پالیسی کے تحت کم از کم پاسنگ مارک 40 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ کسی بھی پرچے میں 40 فیصد سے کم نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کو 'U' یعنی 'غیر گریڈڈ' قرار دیا جائے گا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ایسے طلباء کو دوبارہ وہی پیپر دے کر اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا موقع دیا جائے گا۔ اس نظام کا مقصد ملک بھر کے تعلیمی بورڈز میں یکسانیت لانا ہے۔ تمام بورڈز میں اس سسٹم کے مکمل نفاذ کے بعد مستقبل میں جی پی اے سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا۔
وزیر جامعات کے مطابق سندھ حکومت نے اس نئی پالیسی کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔