اسلام آباد ۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعتراف کیا ہے کہ کچھ کمپنیاں پاکستان سے جارہی ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ زیادہ ٹیکس اور انرجی کی بلند قیمتیں کاروبار کیلئے سنجیدہ مسائل ہیں۔
پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اور نگزیب نے کہا کہ سرکاری اداروں میں ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب روپے ضائع ہو رہے ہیں معاشی اصلاحات سے ہی ترقی ممکن ہے، معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، نجی شعبے کو آگے آکر معیشت میں کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے لے کر فنانس ڈویژن کو منتقل کیا تا کہ پالیسی سازی اور ٹیکس وصولی کے عمل کو الگ کیا جا سکے، ایف بی آر کا فوکس ٹیکس وصولی پر ہے، رواں برس جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہو جائیں گی ، غیر بینکنگ افراد کو با قاعدہ مالیاتی نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر پر مختلف لوگ مختلف رائے رکھتے ہیں، گزشتہ سال 38 ارب ڈالر کے ترسیلات زر آئے ، رواں سال 41 ارب ڈالر ترسیلات زر آنے کی توقع ہے۔
محمد اور نگزیب نے کہا کہ ڈیوٹیز کو معقول بنانا اور کاروباری لاگت کم کرنا ہوگی ، 78 سال میں پہلی بار ٹیرف اصلاحات کے ذریعے خام مال پر ڈیوٹیز کم کی جارہی ہیں، ٹیرف میں کمی سے پاکستان کی برآمدات اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا، موجودہ معاشی اصلاحات پاکستان کیلئے ایسٹ ایشیا مومنٹ ثابت ہو سکتی ہے، قرضوں کی ادائیگی خود کم نہیں ہوئی ، ہم نے اقدامات کئے ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ بچی ہے کہ کچھ کمپنیاں ملک سے جارہی ہیں، ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ٹیکس یا توانائی کی قیمت زیادہ ہے تو یہ حقیقی مسائل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کاروں نے شرکت کی ، 24 ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کئے گئے ہیں،
سرکاری اداروں میں ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب روپے ضائع ہورہے ہیں، یوٹیلیٹی سٹورز، پی ڈبلیوڈی اور پاسکو کو بند کیا گیا ، ان اداروں کو دی گئی سبسڈی میں کرپشن ہورہی تھی۔