نائب مہتمم مولانا راشد الحق سمیع ، سیاسی جانشین مولانا عبدالحق ثانی اور خاندان حقانی سے تعزیت۔
امیر جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمن اپنے وفد بھائی انجینئر ضیاء الرحمن، مولانا راشد محمود سومرو،قاری محمد عثمان،مولانا عطاء الحق درویش و دیگر مرکزی وصوبائی اور ضلعی رہنماؤں کے ہمراہ دارالعلوم حقانیہ تشریف لائے اور مہتمم جامعہ حقانیہ مولانا انوار الحق و نائب مہتمم مولانا راشد الحق سمیع،سیاسی جانشین مولانا عبدالحق ثانی سمیت خاندان حقانی اور اساتذہ و مشائخ دارالعلوم حقانیہ سے اس دردناک سانحہ پر تعزیت اور مولانا حامد الحق حقانی شہید سمیت دیگر شہداء کے لئے دعائے مغفرت کی۔انہوں نے تعزیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کل رات کو حرمین شریفین سے پاکستان واپسی ہوئی ،مولانا حامد الحق شہید اور دیگر کی شہادت نے ہم سب کو انتہائی غمزدہ کردیا ہے۔دارالعلوم حقانیہ میری مادر علمی ہے،جس کی عزت و حرمت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ مولانا حامد الحق حقانی جیسے بے ضررانسان کو مسجد میں نشانہ بنانا سفاکیت اور درندگی ہے۔ایسے بہیمانہ واقعات ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے ۔ایسے حملے تسلسل کے ساتھ جاری ہیں جس میں جید علمائے کرام کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے۔مگر ہم باطل قوتوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہم نہ اپنے مشن سے پیچھے ہٹیں گے اور نہ ہم اپنے نظریے اور اس کے حصول کے لئے اکابر کے دیئے گئے طریقہ کار اور منہج کو چھوڑیں گے ۔اسلام اور مدارس امن ،تعلیم و سلامتی کے مراکز ہیں۔انہوںنے اس موقع پر بانی شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق ،شیخ الحدیث حضرت مولانا سمیع الحق شہید کو ان کے علمی و تدریسی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا اور دارالعلوم حقانیہ کی خدمات کو سراہا۔مولانا فضل الرحمن نے مولانا حامد الحق حقانی شہید کے سیاسی ،سماجی ، علمی،دینی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور شہید کے ورثا شیخ الحدیث مولانا انوار الحق، نائب مہتمم مولانا راشدالحق سمیع، جانشین مولانا عبدالحق ثانی، مولانا عرفان الحق حقانی، مولانا اسامہ سمیع، مولانا خزیمہ سمیع، مولانا سید محمد یوسف شاہ، مولانا لقمان الحق، مولانا سلمان الحق، مولانا بلال الحق، مولانا ارشد علی قریشی سمیت اساتذہ و مشائخ سے تعزیت کی