خیبر پختونخوا میں عوامی خدمات سے جڑی مالی ادائیگیاں کیش لیس سسٹم پر منتقلی کی طرف گامزن 43 خدمات کے لئے مالی ادائیگیوں کا نظام ڈیجیٹل پے منٹ پر منتقل
صوبے میں عوامی خدمات سے جڑے مختلف مالی امور کو شفاف اور ادائیگیوں کو سہل بنانے کے لئے کیش لیس پالیسی پر اہم پیشرفت کے تحت 43 خدمات کو ڈیجیٹل پے منٹ سسٹم پر منتقل کردیا گیا ہے۔ ان سروسز میں میوٹیشن، فرد، موٹر وہیکل رجسٹریشن، موٹر وہیکل ٹوکن ٹیکس، یونیورسٹی داخلہ فیس اور مختلف تعلیمی بورڈ کی فیسوں کی ادائیگیاں شامل ہیں۔ کیش لیس سروس ڈیلوری کے اقدامات پر پیشرفت کا جائزہ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرِ صدارت جمعرات کو منعقدہ اجلاس میں لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مختلف محکموں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام متعارف کرادیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ مرحلہ وار 170 سروسز کو کیش لیس بنا رہا ہے۔ ابتک 43 سروسز کو کیش لیس بنایا گیا ہے۔جبکہ جنوری کے آخر تک تک مزید 23 خدمات کو بھی کیش لیس سسٹم پر منتقل کیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اکتوبر 2025 سے 280,650 ملازمین اور 130,132 پنشنرز کی تنخواہیں ڈیجیٹل سسٹم پر ادا کی جا رہی ہیں۔ حکومت خیبرپختونخوا کے خود مختار اداروں /اتھارٹییز کو بھی کیش لیس بنانے پر کام جاری ہے جو دسمبر 2026 تک مکمل ہوجائے گا۔چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے کہا ہے کہ کیش لیس سروس ڈیلوری سے گڈ گورننس، اقتصادی ترقی اور مالی شفافیت کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے حکام کو ٹائم لائن کے مطابق پیشرفت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں متعلقہ انتظامی سیکریٹریز اور آئی ٹی بورڈ کے حکام شریک ہوئے۔