حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ترکھانی و اتمان خیل قبائل کا مشترکہ جرگہ ، مدرسہ تعلیم القرآن ترخو ماموند کھلنے کا متفقہ مطالبہ Home / باجوڑ /

ترکھانی و اتمان خیل قبائل کا مشترکہ جرگہ ، مدرسہ تعلیم القرآن ترخو ماموند کھلنے کا متفقہ مطالبہ

ایڈیٹر - 07/01/2026
ترکھانی و اتمان خیل قبائل کا مشترکہ جرگہ ،  مدرسہ تعلیم القرآن ترخو ماموند کھلنے کا متفقہ مطالبہ

باجوڑ کے سیاسی ، قبائلی اور مذہبی قائدین کا مشترکہ اجلاس ، 10 جنوری سے قبل مدرسہ تعلیم القرآن ترخو ماموند کھلے کا متفقہ مطالبہ 
تفصیلات کے مطابق جماعت اشاعت التوحید والسنہ کے زیرِ اہتمام یوسف آباد خار میں تحفظِ مساجد و مدارس اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ اجلاس میں باجوڑ کے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین ، قبائلی مشران اور مذہبی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔ اجلاس سے امیر جماعت اشاعت التوحید والسنہ کے مرکزی امیر شیخ القرآن مولانا محمد طیب طاہری نے ٹیلیفونک خطاب کیا جبکہ دیگر مقررین میں امیر جماعت اشاعت التوحید والسنہ باجوڑ شیخ القرآن مولانا عبدالجبار خاکی ، امیر جماعت اسلامی صاحبزادہ ہارون رشید ، صدر مسلم لیگ ن ملک گل کریم خان ، صدر پاکستان پیپلز پارٹی حاجی شیر بہادر ، صدر عوامی نیشنل پارٹی گل افضل ، سراج الدین خان ، ملک محمد آیاز خان ، جمعیت علمائے اسلام کے مولانا محمد طارق ، پاکستان تحریک انصاف کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر خلیل الرحمان ، اورنگزیب انقلابی ، مولانا عبید اللہ ، مفتی طارق جمیل  سمیت درجنوں مقررین نے خطاب کیا۔ مقررین نے متفقہ مطالبہ کیا کہ باجوڑ ماموند میں واقع قدیمی دینی درسگاہ جامعہ تعلیم القرآن ترخو ماموند گزشتہ چھ ماہ سے سیکورٹی فورسز کے استعمال میں ہے اور ہر قسم کے تعلیمی سرگرمیوں کیلئے بند ہے ، مدرسے کے اساتذہ اور سینکڑوں طلبہ دربدر پھر رہے ہیں ، علاقے میں امن کی فضا قائم ہوچکی ہے۔ حکومت کے جانب سے بارہا مدرسہ خالی کرکے تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی مگر تاحال یہ ادراہ کھل نہیں سکا۔ چونکہ 10 جنوری سے وفاقی حکومت کے زیر انتظام دینی مدرارس کے تعلیمی بورڈ وحدت المدارس الاسلامیہ کے امتحانات شروع ہو رہے ہیں لہذا ہم جملہ شرکاء یہ متفقہ مطالبہ کرتے ہیں کہ 10 جنوری سے قبل یہ ادارہ تعلیمی سرگرمیوں کے لیے کھول دیا جائے بصورت دیگر ہم نے تمام مدارس کے طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ سڑکوں پر دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔ اجلاس کے اختتام پر تمام 40 رکنی جرگہ تشکیل دیا گیا جو حتمی مذاکرات کرے گی۔