راولپنڈی ذرائع کے مطابق ملٹری کورٹ نے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے الزام میں مطلوب قرار دیے گئے غداری کے مرتکب کیپٹن عمران علی کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کیپٹن عمران علی نے 26 نومبر 2024 کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں ڈیوٹی کے دوران اپنے سینئر افسران کے احکامات (جو بظاہر نہتے عوام پر گولیاں چلانے کے تھے) ماننے سے انکار کیا۔
بتایا جاتا ہے کہ اس موقع پر انہوں نے مبینہ طور پر سابق وزیراعظم عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حق میں نعرے بازی بھی کی
ذرائع کے مطابق مذکورہ افسر اس وقت اسلام آباد میں تعینات تھے، اور انہوں نے نہ صرف اپنی مقررہ ڈیوٹی ترک کی، بلکہ فوجی نظم و ضبط اور سروس قواعد کی بھی خلاف ورزی کی۔
جو قوانین پاکستان کے تحت غداری کے زمرے میں آتا ہے۔
ملٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد معاملے کی انکوائری شروع کی گئی۔
جسکے بعد اب باقاعدہ تادیبی کارروائی آگے بڑھائی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق الزامات ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔