حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ہماری قیادت اور ہم صحافی؟ Home / بلاگز /

ہماری قیادت اور ہم صحافی؟

رشید آفاق

ایڈیٹر - 16/12/2025
ہماری قیادت اور ہم صحافی؟

یہ اُس وقت کی بات ہے جب ڈی وی ڈی یا سی ڈی پلیئر نئے نئے آئے تھے۔ ہم بھی وزیرستان سے نکل کر ملک ملک، کہاں کہاں منہ مارتے رہے، اور ساتھ ایک نئے ماڈل کا ڈی وی ڈی پلیئر لے آتے۔ ہمارا ایک بچپن کا دوست تھا وزیرستان میں، جو بدقسمتی سے تحصیل دار بن گیا۔ موصوف ایک دن ہمارے حجرے آ کر ہماری ڈی وی ڈی پسند کر کے لے گئے۔ ہم دوسری لے کر آئے تو وہ بھی اُن کو پسند آ گئی، اور اُن کی فرمائش پر ہم وہ بھی اُن کو دے کر تیسرا لے کر آئے، اور وہ تیسرا بھی موصوف کو پسند آ گیا، اور ہم وہ بھی بے دے بیٹھے
پھر چوتھے کے بارے میں جب موصوف نے پسندیدگی کا اظہار کیا تو میں نے منع کیا کہ بھئی، کیا میرا یہ کام رہ گیا ہے کہ میں ڈی وی ڈی لے کر آؤں اور تمہارا یہ کہ میری پسندیدہ ڈی وی ڈی لے جاؤ؟

بس، انکار کے بعد وہ ناراض ہو گئے، بات چیت ختم ہو گئی، ہم دوستوں سے بیگانے اور ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن گئے
مجھے تجسس ہوا کہ جب اُن سے کوئی پوچھے گا کہ رشید آفاق سے بات چیت کیوں ختم ہوئی تو وہ کیا عذر یا جواب پیش کریں گے؟

اس لیے شعلے فلم کی طرح دو تین مقامی جاسوس نما دوست اُن کے پیچھے لگا دیے کہ اُن سے پوچھو کہ رشید آفاق سے بات چیت کیوں ختم کی؟

تو موصوف کا جواب یہ ملا کہ
“مڑہ، رشید آفاق تو دو تین ڈی وی ڈی کی اوقات بھی نہیں رکھتا
اس کے بعد میں سوچتا رہا کہ کیا ایسا بھی اس روئے زمین پر ہوگا جو اس قدر بے پروا، یا ڈھیٹ ہوگا؟

اتنی لمبی تمہید کا لبِ لباب یہ ہے کہ کیا آج فیملی پارک کے اس پروقار پروگرام کے بعد بھی ایسا کوئی ہوگا جو بولے گا کہ
یار،
موجودہ قیادت نے کیا کیا ہے؟

قسم سے، ہم جیسے کارکن صحافی آج ہی اپنے بچوں سے ملے، اُن کو پھولوں کی طرح کھلتے ہوئے دیکھا، ورنہ ہم جیسے ہشاش بشاش انسان بھی تو بچوں کی دنیا میں کڑوس ٹھہرتے ہیں، اور فریداللہ صاحب کے بقول، ہمیں پتا بھی نہیں چلتا
یقین مانیں، آج شمیم شاہد، فریداللہ، ایم ریاض جیسے بڑے انسانوں اور بڑی شخصیات کی تصویریں جب دیکھیں کہ وہ ہمارے بچوں اور اُن کے کمینے باپوں (اِن میں سے سینئرز سے معذرت کے ساتھ) سے بھی پہلے نہ صرف اٹھے تھے بلکہ سپاٹ پر جاگ کر ہمارا اور ہم جیسے دیگر تش پانڑوں (اس میں بھی میں خود کو ایڈجسٹ کر رہا ہوں، سینئر ساتھی پڑھنے سے اجتناب کریں) کا انتظار کر رہے تھے
پتا ہے؟ یہاں مسئلہ کیا ہے؟
ایک ناشکری، نافرمانی، بے قدری، اور خود کے بارے سوچنے کے بجائے دوسروں کے پیچھے بندوق لے کر چلنے کی روش
بھئی، آج ہی ہم نے اپنے بچوں سے ملاقات کی، کس کے ذریعے؟
ایم ریاض، طیب عثمان، کاشف الدین، میدانی، صدیقی، اور ان جیسے ہمارے دیگر ساتھیوں کے ذریعے
اچھا، جب شمیم شاہد صاحب، ریاض صاحب، اور کاشف الدین (جو آج غیر حاضر تھے)، فریداللہ صاحب، ہم اور ہمارے بچوں کا استقبال کرتے ہیں، تو کبھی کسی نے سوچا ہے کہ ہم کون ہیں؟

ہم صحافی ہیں، بڑے تیس مار خان ہیں
بھئی، سامنے والے کون ہیں؟
اُن کے سامنے آپ کی اوقات کیا ہے؟

سچ تو یہ ہے کہ میں پھر گہری سچائی میں ڈبکیاں لگا کر، تازہ دم ہو کر، کس کس کو کہاں کہاں سے سزاوار کہلواؤں گا
بس سیدھی سی بات ہے کہ اپنے خدا اور اُس رسولؐ پر ایمان لا کر،جس پر تمہیں یقین ہے،اگر آج بچوں کے چہروں پر خوشی دیکھ کر مزہ نہیں آیا،
اور اگر مزہ آیا ہوگا،
تو پھر آگے آپ کی مرضی ہے کہ کیا فیصلہ کرنا ہے

اور یہ مزہ کن شخصیات کے مرہونِ منت رہا؟
اور تو چھوڑو،
رضوان شیخ جیسی شخصیت نے کہاں کہاں سے رہنمائی حاصل کر کے ہم اور ہمارے بچوں کو اس قابل بنایا کہ اپنے اپنے ابو جانی کو دیکھیں، ملیں، اور آخر میں بولیں:
لو یو ابو جانی
پھر بھی تم تیس مار اور ہم،ہماری قیادت 
کچھ بھی نہیں
بھئی اے آئی کا دور ہے گراونڈپر دکھانا پڑیگا جیسے ہم دکھا رہے
تہمارا یہ آئین پڑھنے کا انداز ہم اپ سے بہتر جانتے ہیں
فقط
آپ سب کا سجن
آپنا 
رشیدفاق

پھر بھی وہ (جس پر تھوک پھینکنے کو جی کرتا ہے) کہتا ہے کہ موجودہ قیادت نے کیا کیا ہے؟

آج اتوار کا دن ہے۔ مجھے نیپال میں ایک گرو بابا نے بتایا تھا کہ اس دن زیادہ بکواس مت کیا کرو۔