پشاور ۔ سٹیٹ بینک نے ملک بھر کی ایکسچینج کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ یکم جنوری 2026 ء سے غیر ملکی کرنسی کی خرید و فروخت کر نیوالے شہریوں کی بائیو میٹرک کیساتھ ساتھ چہرے کی شناخت کے ذریعے بھی لازمی تصدیق کریں، چہرے کی شناخت کا مطلب یہ ہے کہ اب کوئی بھی شخص اگر غیر ملکی کرنسی خرید نے یا منی ایکسچینج پر فروخت کرنے آئے گا تو اس کی بائیومیٹرک کے ساتھ ساتھ چہرے کی شناخت کی تصدیق بھی لازمی کی جائے گی۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک میں غیر قانونی کرنسی کے لین دین کی روک تھام کے ساتھ ساتھ نادرا اور سٹیٹ بینک کے پاس کرنسی خرید نے یا فروخت کرنے والے تمام افراد کا مکمل اور مستند ریکارڈ یقینی بنانا ہے۔
سٹیٹ بنک نے ایک باضابطہ سرکلر کے ذریعے منی چینجر زکو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی تمام برانچوں میں ہائی ریزولوشن کیمرے نصب کریں جونا درا کے سٹم سے منسلک ہوں ، تا کہ شناخت کے عمل کو فوری اور محفوظ بنایا جا سکے۔
بتایا گیا ہے کہ اس وقت منی چینجر ز بائیو میٹرک نظام پر عمل تو کر رہے ہیں، مگر اس میں کچھ نرمی موجود ہے جیسے 2500 ڈالر تک کے بدلے پاکستانی روپے لیتے وقت شناختی کارڈ کی ضرورت نہیں، جبکہ 2500 ڈالر سے اوپر صرف شناختی کارڈ کی کاپی لازمی ہے۔
اس کے علاوہ پانچ ہزار ڈالر سے زائد کی رقم کیلئے فنڈز کے ماخذ اور مقصد کی دستاویزات فراہم کرنا ضروری ہے، تاہم غیر ملکی کرنسی خرید نے والے ہر شہری کیلئے بائیو میٹرک تصدیق اور متعلقہ دستاویزات پہلے ہی لازمی تھیں۔