فوٹوشاپ کے ذریعے جعلی ویزے نوجوانوں کو دکھا کر اور فیس بک پر ڈال کر نہ صرف ان سے لاکھوں روپے لئے گئے ہیں بلکہ ہزاروں نوجوانوں کی جذبات سے بھی کھیلا گیا ہے ،
ایک متاثرہ نوجوان نے میڈیا کو بتایا کہ پہلے تو ان کو سمجھ نہیں تھی اور وہ ایک ہفتہ تک ویزا ملنے کی خوشیاں منا رہے تھے لیکن پھر کچھ ماہر لوگوں نے ان کو بتایا کہ یہ ویزا مستند نہیں ہے یعنی جعلی ہے اور آپ کے ساتھ فراڈ ہوا ہے ،
نوجوان کے مطابق وہ بہت پریشان ہوا اور جب بار بار پاسپورٹ دینے اور فلائیٹ کی درخواست کی باوجود نہ ان کو پاسپورٹ ملا پے اور نہ فلائیٹ تو ان کو یقین ہوگیا کہ یہ تو فراڈ ہے اور جعلی ایجنٹس اور کمپنی ہے ، ان کا مالی اور معاشرتی نقصان ہوا ہے اور سب لوگ ان کا مذاق اڑا رہے ہیں ،
نوجوان نے یہ بھی بتایا کہ جب جعلی ایجنٹس کو یہ معلوم ہوا کہ ان کا فراڈ بے نقاب ہوگیا ہے تو انہوں نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے تمام ویزے ڈیلیٹ کر دیئے ہیں ،
لنڈی کوتل کا نوجوان بتاتا ہے کہ میرے علاوہ کئی اور لوگوں کو بھی لوٹا گیا ہے اور ان کو پاسپورٹس واپس نہیں دیئے جا رہے ہیں ،
انہوں نے ایف آئی اے ، این سی سی آئی اور دیگر اداروں سے اپیل کی ہے کہ لنڈی کوتل اور پشاور میں جعلی ایجنٹس اور دفاتر کے خلاف کاروائی کی جائے اور ان سے تمام پاسپورٹس اور رقم واپس لی جائے کیونکہ ان کے پاس او ای پی لائسینس نہیں ہے اور یہ انسانی اسمگلنگ کے ذمرے میں آتا ہے