حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
27 ویں آئینی ترمیم سے عدلیہ حقیقی معنوں میں آزاد ہوئی ۔ ایمل ولی خان Home / سیاست /

27 ویں آئینی ترمیم سے عدلیہ حقیقی معنوں میں آزاد ہوئی ۔ ایمل ولی خان

ایڈیٹر - 27/11/2025
27 ویں آئینی ترمیم سے عدلیہ حقیقی معنوں میں آزاد ہوئی ۔ ایمل ولی خان

چارسدہ ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں مستعفی ہونے والے جز کے بعد عوام کو شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ عدالت عظمی لاہوری گروپ کے اثر سے مکمل طور پر آزاد ہو گئی ہے۔


انہوں نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم ایک خوش آئند قدم ہے جو باہمی مشاورت اور اے این پی کے بنیادی تحفظات دور ہونے کے بعد منظور کی گئی۔ اس ترمیم کے بعد کوئی بھی منتخب وزیر اعظم یا صدر کسی کے دباؤ پر گھر نہیں بھیجے جاسکیں گے جو ملک کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔ وہ پڑانگ اسٹیڈیم چارسدہ میں آل پاکستان اسفند یار ولی خان فٹبال ٹورنامنٹ کے فائنل میچ کے اختتام پر قسیم انعامات کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔


تقریب میں پیٹرن ان چیف سید معصوم شاہ باچہ، اے این پی ضلع چارسدہ کے صدر شکیل بشیر خان عمرز کی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے ایمل ولی خان نے کہا کہ آج انقلاب کی باتیں کرنے والے کئی حجز ذاتی تعلقات پسند نا پسند اور خاندانی اثرات کی بنیاد پر فیصلے سناتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ 1973 کے آئین کے بعد عدلیہ کی پہلی کارروائی اس وقت کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کو بین کرنے اور اس کے رہنماں کو جیلوں میں ڈالنے کی صورت میں سامنے آئی ، اب 27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ حقیقی معنوں میں آزاد ہو چکی ہے اور ہمیں اس پر فخر ہے اور یہ ترمیم ملک کے لیے بہترین ہے


اے این پی سربراہ نے کہا کہ ترمیم پر مذاکرات دو طرفہ بنیاد پر ہوئے جس میں تعلیم، آبادی، این ایف سی ایوارڈ اور 18 ویں ترمیم سے متعلق ان کے تحفظات کو تسلیم کیا گیا ایمل ولی خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام دہشت گردی کو کسی صورت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ پوری قوم دہشت گردی کے مکمل خاتمے کی خواہاں ہے مگر صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑ رہی ہے۔ پاک افغان تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاک افغان تعلقات اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتے جب تک دونوں ممالک میں حقیقی عوامی نمائندے اقتدار میں نہ ہوں امریکہ پاکستان میں شدت پیدا کرنا چاہتا ہے جبکہ امریکہ اور چین کے درمیان ممکنہ جنگ کا بھی خدشہ ہے۔